جہلم لائیو(پریس ریلیز):علماء جب دینی علم سیکھیں تو ساتھ دنیاوی علم بھی سیکھنا چاہیے اور اگر کوئی دنیاوی علم سیکھتا ہے تو اُسے دینی علم بھی حاصل کرنا چاہیے ۔تب مکمل علم ہو گا ۔ان خیالات کا اظہار شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ مولانا امیر محمد اکرم اعوان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر حدیث کے شرح بیان کرتے ہوئے کیا ۔
انہوں نے کہا کہ صوفیاء اور علماء کو آگے آنا چاہیے اور ملک کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ حکومتوں اور ریاستوں میں اللہ کا دین ہو ، اللہ کے احکامات پر عمل ہو ،عدل و انصاف نافذ ہو، لوگوں کو انکو حقو ق ملیں ملک میں امن قائم ہو ۔قومیں اپنے بڑوں کی پیروی کرتی ہیں ہماری بد نصیبی یہ ہے کہ جو صاحب اقتدار ہیں وہ دین سے دور ہیں اور علماء جو ہیں وہ صرف دینی علم حاصل کرتے ہیں دنیاوی علم کی طرف انکی توجہ بہت کم ہے میدان عمل میں علماء کارہنا بہت ضروری ہے تاکہ ایسے لوگ آگے آئیں جو دین جانتے ہوں لوگوں کو دین کی طرف مائل کر سکیں حق کا پرچم بلند کر سکیں۔
اللہ کریم ہمیں وطن عزیز کو اسلامی ریاست بنانے کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں اور صحیح شعور عطا فرمائیں۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Trending
- جعلی پروفائلز کے ذریعے کردار کشی: ڈیجیٹل دور کا نیا اور خطرناک ہتھیار
- ٹیکنالوجی کے دور میں ذمہ داری، آزادی اور احتساب
- الگورتھم اور احتساب: ڈیجیٹل دور میں طاقت کا توازن کس کے ہاتھ میں ہے؟
- ڈیٹا کس کا ہے؟ شہری حق یا کارپوریٹ اثاثہ: ڈیجیٹل دور کا سب سے بڑا سوال
- فیک نیوز سے ریاستی کنٹرول تک: ڈیجیٹل میڈیا کو درپیش جدید رکاوٹیں