جہلم لائیو(پریس ریلیز):ہم مردم شماری کے مطابق مسلمان ہیں۔وہ تہذیب جو اسلامی تھی ہم سے کھو چکی،آج لوگوں نے دین کو صرف ثواب کے لیے رکھا ہوا ہے ۔حالانکہ اسلام کی اپنی ایک تہذیب ہے ،کسی بھی معاشرہے میں رسم و رواج عقیدے کے مطابق فروغ پاتے ہیں ۔کیا آج ہمارے معاشرے اورکردار سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارا عقیدہ ہمارا ایمان کیا ہے ؟ان خیالات کا اظہار مولانا اکرم اعوان نے گزشتہ روز خطبہ جمعہ کے دوران کیا،
انہوں نے کہا کہ نورِ ایمان کا اظہار کردار کے ایک ایک حصے سے ہوتا ہے ۔معاشرت ایمان کی مظہر ہوتی ہے ۔کفر اور اسلام کی معاشرت مشترک نہیں ہو سکتی ۔آج ہم لوگوں کا حق چھین کر دولت جمع کر رہے ہیں ۔جو معاشرہ کفار کی پیروی کرتاہے وہ اسلام کا دعویٰ کیسے کر سکتا ہے ؟اسلام تو
محمد الرسول اللہ ﷺ کی اتباع کا نام ہے ۔دنیا میں اللہ کی رضا کے لیے زندہ رہو دنیا حاصل کرنے کے لیے نہیں۔دنیاوی ضروریات کو مقصد حیات نہیں بنانا چاہیے ۔بلکہ صرف زندہ رہنے کے لیے جائز طریقے سے حاصل کرنی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں جہاں بھی کوئی بھلائی ہے حضور اکرم ﷺ کی عطا ہے ۔نتائج دعویٰ پر نہیں کردار پر مرتب ہوتے ہیں۔اسلامی ریاست کی بنیاد اس بات پر ہے کہ ریاست کے ہر فرد کے حقوق کا تحفظ کیا جائے ۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائے۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعافرمائی۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Trending
- جعلی پروفائلز کے ذریعے کردار کشی: ڈیجیٹل دور کا نیا اور خطرناک ہتھیار
- ٹیکنالوجی کے دور میں ذمہ داری، آزادی اور احتساب
- الگورتھم اور احتساب: ڈیجیٹل دور میں طاقت کا توازن کس کے ہاتھ میں ہے؟
- ڈیٹا کس کا ہے؟ شہری حق یا کارپوریٹ اثاثہ: ڈیجیٹل دور کا سب سے بڑا سوال
- فیک نیوز سے ریاستی کنٹرول تک: ڈیجیٹل میڈیا کو درپیش جدید رکاوٹیں
Next Post