جہلم لائیو : وہ اعمال جن کے فیصلے قرآن کریم تفصیل سے بیان فرماتا ہے انہیں حدود کہتے ہیں۔ان کے لیے عدالت کو صرف ثبو ت اور گواہ کی ضرورت ہوتی ہے فیصلہ وہی ہو گا جو اللہ نے مقرر کر دیا ۔ عدالت کا کام ہے کہ اللہ کی حدود نافذ کرے اگر ایسا نہیں ہوتا تو قرآن کریم نے اس کو بہت بڑا ظلم قرار دیا ہے ۔ان خیالات کا اظہار شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ مولانا امیر محمد اکرم اعوان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ بندے جب انصاف کرتے ہیں تو انصاف کے نام پر ظلم کرتے ہیں انصاف وہی ہے جو اللہ کریم نے مقرر فرمایا ہے ۔طاقتور جب عدل کے قوانین بناتا ہے تو طاقتور کا خیال رکھتا ہے اور کمزور کو جکڑ دیا جاتا ہے ۔کسی سے ڈر کر یا کسی لالچ میں آکر حق کو چھوڑ دینا غضب الٰہی کو دعوت دینے کے برابر ہے ۔اقتدار کو اللہ کی امانت سمجھ کر استعمال کرنا چاہیے ہم صرف کلمہ پڑھنے پر زور دیتے ہیں،اس کا مفہوم جاننے کی کوشش نہیں کرتے ۔کلمہ کا پہلہ جملہ اللہ کے روبرو کھڑا کر دیتا ہے ۔جو کلمہ پڑھ لے اس کے پاس تو گنجائش ہی نہیں کسی اور کی بات مانے۔
ہمیں اپنے معاملات کو اسلامی کرنا چاہیے ہمیں تو کوئی نہیں روک رہا ۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Trending
- جعلی پروفائلز کے ذریعے کردار کشی: ڈیجیٹل دور کا نیا اور خطرناک ہتھیار
- ٹیکنالوجی کے دور میں ذمہ داری، آزادی اور احتساب
- الگورتھم اور احتساب: ڈیجیٹل دور میں طاقت کا توازن کس کے ہاتھ میں ہے؟
- ڈیٹا کس کا ہے؟ شہری حق یا کارپوریٹ اثاثہ: ڈیجیٹل دور کا سب سے بڑا سوال
- فیک نیوز سے ریاستی کنٹرول تک: ڈیجیٹل میڈیا کو درپیش جدید رکاوٹیں