سابق وزیر اعظم پاکستان لیاقت علی خان کے راولپنڈی میں قتل پر ایک نئی کتاب منظرعام پر آئی ہے ۔جو اس کےقاتل سید اکبر کے بیٹے فاروق ببرک زئی نے تحریر کی ہے۔ اس کتاب میں لیاقت علی کے قتل اور سید اکبر کےبارے نئے زاوئیے سے روشنی ڈالی گئی ہے، جو سنسنی خیز ہونے کے ساتھ تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کو غور وفکر کی دعوت دیتی ہے۔
فاروق ببرک زئی اب کافی عمر رسیدہ ہوچکے ہیں اور امریکا میں اس وقت مقیم ہیں ۔وہ ایک امریکن یونیورسٹی میں انگلش لٹریچرکے استاد کے طور پر ریٹائرڈ ہوئے ہیں۔ بلاشبہ سید اکبر کے حوالے سے انھوں نے جو انکشافات کئے اس پر انھوں نے کافی محنت کی ہے کیونکہ یہ ان کی فیملی کا معاملہ تھا ۔لیکن اس کتاب میں ہمارے مطالعے کیلئے بھی دلچسپی کے کئی پہلو نظر آتے ہیں۔
فاروق ببرک زئی کا یہ انکشاف حیران کن تھا کہ سید اکبر علامہ اقبال کی شاعری پڑھتا تھا اور اس سے متاثر ہوکر اسے کشمیر میں جہاد کا خیال آیا ۔ اسی کے زیر اثر اس نے اسلامی کتابوں خصوصا جہادی کتب کا مطالعہ شروع کیا۔ اس زمانے میں جہاد کشمیر شروع ہوچکا تھا لیکن بعدازاں اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان خان لیاقت علی خان نے سیزفائر کردیا ۔
more read:
کیا یوٹیوب اور پوڈکاسٹ نے روایتی میڈیا کی اجارہ داری ختم کر دی ہے؟
اس میں ایک کردار میجر خورشید انور کا ہے جو دراصل جہاد کشمیر کا ارگنائزر تھا ، اس نے قبائیلی علاقوں سے4000 قبائلی پٹھانوں کو جہاد کشمیر کےلئے تیار کیا اور اکتوبر 1947 میں موجودہ آزادکشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کو مہاراجہ کشمیر سے آزاد کروالیا اور اس کے بعد قبائلی لشکر دیگر علاقوں کو آزاد کرواتے ہوئے بارہ مولا تک پہنچ گیا ۔مہاراجہ کشمیر نے اس صورتحال سےگھبرا کر انڈین وزیراعظم جواہر لعل نہرو سے مداخلت کی اپیل کی جس پر انھیں انڈیا سے کشمیر کے الحاق کی دستاویز پر دستخط کرنا پڑے اور انڈین آرمی سرینگرمیں اتر گئی۔
یواین او کی مداخلت پر سیزفائر ہوا اور کشمیر تقسیم ہوگیا۔ سیز فائرپر اس وقت جنرل اکبر خاں سخت سیخ پا تھے اور جہاد کشمیر کے کمانڈر میجر خورشید بھی آؤٹ آف کنٹرول تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ لیا قت علی ملک چلانے میں ناکام ہوچکے ہیں اور انھوں نے تھالی میں رکھ کر کشمیر بھارت کو دے دیا ہے۔ان کرداروں نے لیاقت علی خان کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تو پنڈی سازش کیس شروع ہوا۔ لیاقت علی خان نے فوجی افسروں کی ترقی بھی روک دی اور نرم سزاؤں پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انھیں تو پھانسی کی سزا ہونی چاہئیے تھی۔چنانچہ میجر خورشید انور کا خیال تھا کہ اس سے پہلےکہ لیاقت علی کشمیر بیچ دے اور جنرل اکبر علی خاں کو پھانسی دے دے اسے راستے سے ہٹادینا چاہئیے۔
میجر خورشید انور کے سید اکبر سے قریبی روابط تھے ، دوسری طرف سید اکبر خود بھی جہاد کشمیر پر جانا چاہتاتھا کہ سیزفائر ہوگیا اور وہ بھی لیاقت علی خان کے خلاف ہوچکا تھا۔ سید اکبر جو کہ ایک افغان نیشنل تھا ،اس کو سی آئی ڈی نے ماہانہ وظیفے پر رکھا ہوا تھا۔ اسی زمانے میں غلام محمد ( جو بعد میں گورنر جنرل بنے ) لیاقت علی کے سخت خلاف ہوچکے تھے اور ان کی پالیسیز پر تنقید کرتے تھے۔ پنجاب میں ممدوٹ اور دولتانہ بھی لیاقت علی خان کو پسند نہیں کرتے تھے۔
غلام محمد کے میجر خورشید انور سے قریبی تعلقات تھے۔ لاہور میں ایک ملاقات میں ملک غلام محمد نے میجر خورشید سے کہا اس شخص ( لیاقت علی ) کو راستے سے ہٹادو ورنہ میں اس ملک میں نہیں رہوں گا۔
چنانچہ میجر خورشید انور نے سید اکبر کوتیارکیااور کہاکہ لیاقت علی کے قتل کے بعد تمھیں بچالیاجائیگا، لیاقت علی نے کشمیر کاز کو نقصان پہنچایا ہےلہذا اسے ہٹانا ضروری ہے ۔
لیاقت علی کا جلسہ وکٹوریہ گراؤنڈ میں منعقد ہونا تھا لیکن جگہ تبدیل کرکے کمپنی باغ کردیاگیا جو غیرمحفوظ کھلی جگہ تھی ۔ سٹیج پر صرف ایک میز کرسی تھی جس کے پیچھے لیاقت علی تھے۔ جبکہ سٹیج کے عین سامنے 18 فٹ کے فاصلے پر سید اکبر کو بٹھادیاگیا جو جلسہ سے دو گھنٹے پہلے وہاں پہنچ گیا۔اس کے پاس اپنا مہلک جرمن لیوجر پسٹل تھا۔
جب لیاقت علی نے تقریر شروع کی تو پہلے دو الفاظ برادران ملت ادا ہوتے ہی سید اکبر نے فائر کئے ، گولی سینے پر لگی اور وہ گرگئے، عجیب بات یہ کہ سٹیج پر بیٹھی ہوئی شخصیات میں سے کوئی کھڑا نہ ہوا۔ ڈی ایس پی نجف خان جو خود ایک مشکوک کردار ہے وہ سید اکبر کے پاس بیٹھا ہواتھا اس نے پشتو میں چیخ کر کہا جس نے گولی چلائی ہے اسے مار دو ۔ انسپکٹر محمد شاہ سٹیج کے پیچھے سے گن لیکر سامنے آیا اور سید اکبر کو گولی ماردی جبکہ اس نے گولی چلاتے کسی کو نہ دیکھا تھا۔ بعدازاں انسپکٹر محمدشاہ کو بہت مال ملا اور اس نے گجرات میں ٹیکسٹائل مل لگالی لیکن اسے اس مل میں ہی قتل کردیا گیا۔بلکہ ڈی ایس پی نجف خان سے بھی کسی قسم کی پوچھ گچھ نہیں ہوئی،لیاقت علی قتل کیس پر جو رپورٹ تیار کی گئی وہ جج جس جہاز پر سفر کررہے تھے وہ جہاز بھی کریش ہوگیا اور رپورٹ ضائع ہوگئی۔اس قتل کے بعد ملوث کرداروں نے سید اکبر کے بارے میں جھوٹی کہانیاں گھڑیں اور جعلی دستاویزات تیار کیں۔جس کے بعد یہ قتل تاریخ کے سینے میں دفن ہو گیا۔
یہ تمام تفصیلات فاروق ببرک زئی کی کتاب The Assassination of Liaquat Ali Khan: A Critical Look at the Early History of Pakistan اور اس کے انٹرویو سے لی گئی ہیں۔
نویّد احمد ایک آزاد صحافی، تجزیہ نگار اور VOX Pakistan کے بانی ہیں۔
وہ پاکستان اور دنیا بھر کی سیاست، سماجی مسائل، معیشت ، ڈیجیٹل میڈیا اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس AI پر تحقیقی اور تجزیاتی مضامین لکھتے ہیں۔
ان کی تحریروں کا مقصد خبروں سے آگے بڑھ کر مسائل کے پس منظر، اثرات اور عوامی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔
VOX Pakistan کے تحت شائع ہونے والا بیشتر مواد انہی کی تحریر یا ادارت میں شائع کیا جاتا ہے۔
📧 رابطہ: voxpakistanofficial@gmail.com