الشفاء اسپتال کے ڈاکٹروں نے الجزیرہ کو بتایا کہ اب اسپتال میں لائے جانے والے زیادہ تر مریض جنگی زخموں کے بجائے بھوک سے متاثر ہیں۔ طبی عملہ محدود سامان کے ساتھ کام کر رہا ہے۔
عالمی خوراک پروگرام کے مطابق، غزہ کی پٹی میں تقریباً 90,000 خواتین اور بچے فوری طور پر بھوک سے متعلق بیماریوں کے علاج کے منتظر ہیں۔
اے ایف پی صحافیوں کی تنظیم نے اپنے بیان میں غزہ میں کام کرنے والے اپنے فری لانس صحافیوں کی بدتر ہوتی حالت پر تشویش کا اظہار کیا۔ تنظیم نے کہا کہ "کچھ صحافی اب بھوک کی شدت کی وجہ سے کام کرنے کے قابل نہیں رہے۔ ہمیں کسی بھی وقت ان کی موت کی خبر مل سکتی ہے، اور یہ ناقابل برداشت ہے۔”
غزہ کے طبی حکام کے مطابق، اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی کے الشاطی پناہ گزین کیمپ پر علی الصبح حملہ کیا جس میں 13 فلسطینی شہید اور کم از کم 25 زخمی ہوئے۔
اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ان کا ایک اہلکار، اسٹاف سارجنٹ آمیت کوہن، جنوبی غزہ میں جھڑپ کے دوران مارا گیا۔
دوسری جانب، فلسطینی ہلال احمر نے اطلاع دی کہ اس نے غزہ سٹی کے جنوب مغربی علاقے نابلسی جنکشن کے قریب امداد لینے کے لیے جمع ہونے والے افراد میں سے 118 زخمیوں کا علاج کیا۔ ادارے نے خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات کی شدید قلت کا ذکر کیا۔
غزہ پر اسرائیل کی جنگ:
یہ جنگ اب اپنے 21ویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے، جس میں غزہ کے صحت حکام کے مطابق 59,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔
گزشتہ نومبر میں، بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گالانٹ کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر وارنٹ جاری کیے تھے۔
اسرائیل اس وقت غزہ میں اپنے اقدامات پر بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) میں نسل کشی کے مقدمے کا سامنا بھی کر رہا ہے۔