VOX Pakistan - ووکس پاکستان
جہلم سے پاکستان تک کی مکمل کوریج

والدین اپنےبچوں کے لامحدوداسکرین ٹائم سے کیسے نجات حاصل کریں ؟

آج کل ہمارے ہاں سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ اپنے بچوں کا اسکرین ٹائم کیسے محدود کیا جائے۔

ہمارے گھروں میں بچے اپنے اسمارٹ فونز اور ٹیبلیٹس سے چپکے نظر آتے ہیں۔

ہر وقت اسکرین پر بیٹھنے کی وجہ سے ان کو کافی مسائل کا سامنا ہے،جو دن بدن بڑھ رہے ہیں۔

اس لیے ہمیں بچوں کے معمولات میں کچھ تبدیلیاں کرنا شروع کر دینی چاہئیں، تاکہ حالات مزید خراب نہ ہوں ۔

اس کے لئے کچھ تجاویز پیش کی جا رہی ہیں.

بچوں کی ڈیجیٹل ڈیوائس کا ٹائم متعین کریں:

بچے گھر میں موجود موبائیل فون یا ٹیبلٹ وغیرہ کو بلا ضرورت استعمال کرتے رہتے ہیں،جس کی ذمہ داری دراصل ان کے والدین کی ہے کہ وہ ان کو ان ڈیوائسس کا عادی کر دیتے ہیں،اگر آپ بچوں کے اسکرین ٹائم کو کم کرنا چاہتے ہیں تو سب سے بہتر ہے کہ ان کے استعمال میں موجود ڈیجیٹل ڈیوائسس کا وقت مقرر کریں،ایک طے شدہ شیڈول کے مطابق بچوں کو ان کے استعمال کی اجازت دیں، اور بچوں کو ان کا عادی بننے سے بچائیں، یہ حکمت عملی بہر حال آپ کی مدد کر سکتی ہے ۔

کھانے کے دوران ٹی وی بند کریں:

بہت سے والدین اپنے بچوں کو ٹی وی سے باالکل محروم کر دیتےہیں، لیکن یہ کوئی موثر طریقہ نہیں ہے۔ ٹی وی کا وقت مکمل طور پر ختم کرنے کی بجائے، کھانے کے وقت اور ہوم ورک کرتے وقت TV بند کرکے اسے محدود کرنے کی کوشش کریں۔ ایک تازہ ریسرچ سے معلوم ہوا ہےکہ جو لوگ اپنے کھانے کے دوران میڈیا کا استعمال کرتے ہیں وہ زیادہ کیلوریز کھاتے ہیں۔ اسکرین سے دور کھانا آپ کی توجہ مرکوز رکھتا ہے—چنانچہ انسان اس سے لطف اندوز ہوتا ہے—جو آپ کھاتے ہیں۔

جسمانی کھیلوں کی طرف راغب کریں :

آج کی نئی نسل سے جب کھیل کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو وہ اس کو ڈیجیٹل سپورٹس کے معنی میں لیتے ہیں، اسکرین پر پب جی اور دیگرگیمز کھیلنے کی بجائے بچوں کو جسمانی کھیلوں مثلاً کرکٹ،فٹبال،بیڈمنٹن اور والی بال وغیرہ سے روشناس کرائیں،اور انہیں ان کھیلوں میں حصہ لینے کی عادت ڈالیں،تاکہ ان کا اسکریں ٹائم کو کم کیا جاسکے۔

آرٹ ورک کی تربیت:

بچوں کی تخلیقی نشو ونما کے لئےآرٹ ورک کی تربیت بہت ضروری ہے، اس سےبچوں کی مختلف مہارتوں کو فروغ ملے گا۔ ان میں خود اعتمادی بڑھے گی،اس کے ساتھ ساتھ مصروفیت بھی بڑھ جائے گی،جب بچے آرٹ ورک کے عادی ہو جائیں گے تو اسکرین کو کم سے کم استعمال کریں گے۔

ورزش کا معمول بنائیں:

ایک رپورٹ کے مطابق آج، دنیا بھر میں بچے تفریحی ذرائع ابلاغ (بشمول ٹی وی، کمپیوٹر گیمز، موسیقی، فلمیں، سوشل میڈیا، وغیرہ) پر روزانہ اوسطاً 7.5 گھنٹے گزار رہے ہیں۔ تاہم چھوٹی عمر سے ہی، بچوں کو ڈیجیٹل آلات میں ڈوبنے کی بجائے جسمانی ورزش کی طرف متوجہ کریں،جسمانی ورزش سے ان کی ذہنی اور جسمانی نشوونما ہو گی اور وہ ڈیجیٹل آلات سے بھی کسی حد تک دور رہیں گے۔

آن لائن پرائیویسی اور ان کی سیکیورٹی کے بارے میں آگاہی دیں:

اسکرین ٹائم کے ساتھ وابستہ دوسرامسئلہ آن لائن پرائیویسی اور سیکیورٹی کاہے، بچوں کو آن لائن پرائیویسی اور سیکورٹی کے متعلق بھی ہدایات دیں،انہیں بتائیں کہ وہ اسکرین کا استعمال کیسے کریں گے،اپنی معلومات آن لائن شیئر کرنے سے پرہیز کریں،حقیقی دنیا اور ڈیجیٹل دنیا میں فرق ان پر واضح کریں،تاکہ کسی نا خوشگوار واقعہ سے بچے محفوظ رہیں۔

You Can Read:

سوشل میڈیا کا ڈوپامین سائیکل: خوشی یا نفسیاتی غلامی؟

بچوں کے لیے اسکرین ٹائم: فائدے اور نقصانات

آج کے ڈیجیٹل دور میں بچے موبائل، ٹیبلٹ، کمپیوٹر اور ٹی وی کے ساتھ بہت وقت گزارتے ہیں۔ اسکرین ٹائم (Screen Time) بچوں کی تعلیم، تفریح اور سوشلائزیشن کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے، لیکن اس کے مثبت اور منفی دونوں اثرات ہیں۔

اسکرین ٹائم کے فوائد

اسکرین ٹائم بچوں کے لیے بعض اوقات مفید بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ تعلیمی ایپس اور ویڈیوز بچوں کو نئے مضامین، ہنر اور معلومات سیکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ کچھ تعلیمی گیمز بچوں کی problem-solving اور logical thinking کو بھی بہتر کرتی ہیں۔ علاوہ ازیں، ویڈیو کالز کے ذریعے بچے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ جڑ کر سوشل تعلقات برقرار رکھ سکتے ہیں، خاص طور پر جب وہ گھر یا اسکول میں الگ تھلگ ہوں۔

اسکرین ٹائم کے نقصانات

لیکن زیادہ اسکرین ٹائم کے کئی نقصان بھی ہیں۔ بچوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جیسے آنکھوں کی تھکن، نیند میں خلل، اور جسمانی سرگرمی کی کمی۔ اس کے علاوہ، زیادہ موبائل اور گیمز میں وقت گزارنے سے بچوں کی توجہ اور concentration کم ہو سکتی ہے، اور وہ اپنی پڑھائی یا روزمرہ کے کاموں میں کم دلچسپی دکھا سکتے ہیں۔ بعض اوقات آن لائن مواد بچوں کے لیے نقصان دہ یا غیر موزوں بھی ہو سکتا ہے، جس سے ان کی نفسیاتی صحت پر اثر پڑتا ہے۔

والدین کے لیے رہنما اصول

والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کے اسکرین ٹائم پر نظر رکھیں اور اسے محدود کریں۔ امریکہ اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق، 2 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے اسکرین ٹائم تقریباً صفر ہونا چاہیے، جبکہ 2 سے 5 سال کے بچوں کے لیے روزانہ 1 گھنٹہ سے زیادہ نہ ہو۔ اسکول کے عمر کے بچوں کے لیے بھی والدین کو وقت مقرر کرنا چاہیے، اور انہیں physical activities اور outdoor کھیل کود کی ترغیب دینی چاہیے۔

More Read:

5 منٹ کا دھوکہ: ڈیجیٹل دور میں وقت کی چوری اور اس کا حل

توازن اور ذمہ داری

سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسکرین ٹائم کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جائے بلکہ توازن بنایا جائے۔ بچوں کو تعلیمی اور مثبت مواد فراہم کرنا، وقت کی پابندی، اور physical play کے مواقع دینا ان کی مجموعی نشوونما کے لیے ضروری ہے۔

نویّد احمد ایک آزاد صحافی، تجزیہ نگار اور VOX Pakistan کے بانی ہیں۔
وہ پاکستان اور دنیا بھر کی سیاست، سماجی مسائل، معیشت ، ڈیجیٹل میڈیا اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس AI پر تحقیقی اور تجزیاتی مضامین لکھتے ہیں۔

ان کی تحریروں کا مقصد خبروں سے آگے بڑھ کر مسائل کے پس منظر، اثرات اور عوامی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔
VOX Pakistan کے تحت شائع ہونے والا بیشتر مواد انہی کی تحریر یا ادارت میں شائع کیا جاتا ہے۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More