حمزہ بیگ کا فرضی خط تحریر عمیر احمد راجہ
سنا تھا وقت کسی کے لیے نہیں رکتا کوئی مرے یا جیے اس کو کوئی فرق نہیں پڑتاگھڑی کی سوئیاں بھی اپنی رفتار سے چلتی رہتی ہیں کیلنڈر پر لکھے ماہ و سال بھی اپنے اپنے مقررہ وقت پر آتے جاتے رہتے ہیں لیکن جس گھر میں تم رہتے تھے وہاں 19مارچ کے بعد سے…